Learn Quran with tajweed with Qari Hamza Tariq
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Learn Quran with tajweed with Qari Hamza Tariq, デジタルクリエイター, Onilne, Lahore.
☪️ Faith | Patience | Positivity
🤍 Trust Allah’s timing ⏳
🌟 Every test comes with a hidden blessing
🌿 Alhamdulillah for every moment 🤍
🌙 Proud to be a Muslim 🙌
💫 Spreading Positivity & Faith
💬 Change starts with you 🌍
28/07/2026
🌱 *گھروں میں بولے جانے والے چند کفریہ کلمات جو ایمان کو خراب کر دیتے ہیں...* 🌱
👈🏻 میں یہاں پر کچھ کفریہ کلمات آپکے کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ جو عام طور پر ہمارے مسلمان بھائی بہن بول ڈالتے ہیں۔جن سے ان کا ایمان ضائع ہوجاتا ہے اور ان کو خبر بھی نہیں ہوتی۔ اسی لئے علماء کرام فرماتے ہیں کہ فرائض علوم کو ضرور سیکھئے...
1۔ جیسے کوئی مصیبت کے وقت کہے۔" اللہ نے پتہ نہیں مصیبتوں کے لئے ہمارا گھر ہی دیکھ لیا ہے"
2۔ یا موت کے وقت کوئی کہہ دے۔"پتہ نہیں اللہ کو اس شخص کی بڑی ضرورت تھی جو اس کو اپنے پاس اتنی کم عمر میں بلا لیا"۔
3۔ یا کہا ۔ نیک لوگوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ جلدی اٹھا لیتا ہے کیوں کہ ایسوں کی اللہ عَزَّوَجَلَّ کو بھی ضَرورت پڑتی ہے
4۔ یااللہ ! تجھے بچّوں پر بھی ترس نہیں آیا۔
5۔ االلہ ! ہم نے تیرا کیابِگاڑا ہے! آخِر ملکُ الموت کوہمارے ہی گھر والوں کے پیچھے کیوں لگا دیا ہے
6۔ اچّھا ہے جہنَّم میں جائیں گے کہ فلمی اداکار ئیں بھی تو وہیں ہوں گی نہ مزہ آجائے گا۔
7۔ اکثر لوگ فیس بک پر اس طرح کے لطائف لکھ ڈالتے ہیں۔ یہ بھی کفر ہے۔ جیسے اگر تم لوگ جنّت میں چلے بھی گئے تو سگریٹ جلانے کیلئے تو ہمارے ہی پاس (یعنی دوزخ میں)آنا پڑے گا
8۔ آؤ ظہر کی نماز پڑھیں ، دوسرے نے مذاق میں جواب دیا :یا ر ! آج تو چُھٹّی کا دن ہے ، نَماز کی بھی چُھٹّی ہے ۔
9۔ کسی نے مذاق میں کہا:''بس جی چاہتا ہے یہودی یا عیسائی یا قادیانی بن جاؤں۔ ویزہ تو جلدی مل جاتا ہے نا۔
10۔ اتنی نیکیاں نہ کرو کہ خُدا کی جزا کم پڑجائے
11۔ خُدا نے تمہارے بال بڑی فرصت سے بنائے ہیں
12۔ زید نے کہا:یار!ہوسکتا ہے آج بارش ہوجائے۔ بکرنے کہا:''نہیں یار ! اللہ تو ہمیں بھول گیا ہے۔
13۔ دنیا بنانے والے کیا تیرے من میں سمائی؟ تو نے کاہے کو دنیا بنائی؟ (گانا)
14۔ حسینوں کو آتے ہیں کیا کیا بہانے ۔ خدا بھی نہ جانے تو ہم کیسے جانے (گانا)
15۔ میری نگاہ میں کیا بن کے آپ رہتے ہیں ۔ قسم خدا کی ' خدا بن کے آپ رہتے ہیں ۔ (گانا) اس طرح کے بے شمار گانے جو ہمارے مسلما ن اکثر گنگناتے دیکھائی دیتے ہیں۔
خدارا ان سب سے بچیں اللہ پاک ایمان پر قائم رکھے آمین ثم آمین
🌱 *گھروں میں بولے جانے والے چند کفریہ کلمات جو ایمان کو خراب کر دیتے ہیں...* 🌱
👈🏻 میں یہاں پر کچھ کفریہ کلمات آپکے کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ جو عام طور پر ہمارے مسلمان بھائی بہن بول ڈالتے ہیں۔جن سے ان کا ایمان ضائع ہوجاتا ہے اور ان کو خبر بھی نہیں ہوتی۔ اسی لئے علماء کرام فرماتے ہیں کہ فرائض علوم کو ضرور سیکھئے...
1۔ جیسے کوئی مصیبت کے وقت کہے۔" اللہ نے پتہ نہیں مصیبتوں کے لئے ہمارا گھر ہی دیکھ لیا ہے"
2۔ یا موت کے وقت کوئی کہہ دے۔"پتہ نہیں اللہ کو اس شخص کی بڑی ضرورت تھی جو اس کو اپنے پاس اتنی کم عمر میں بلا لیا"۔
3۔ یا کہا ۔ نیک لوگوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ جلدی اٹھا لیتا ہے کیوں کہ ایسوں کی اللہ عَزَّوَجَلَّ کو بھی ضَرورت پڑتی ہے
4۔ یااللہ ! تجھے بچّوں پر بھی ترس نہیں آیا۔
5۔ االلہ ! ہم نے تیرا کیابِگاڑا ہے! آخِر ملکُ الموت کوہمارے ہی گھر والوں کے پیچھے کیوں لگا دیا ہے
6۔ اچّھا ہے جہنَّم میں جائیں گے کہ فلمی اداکار ئیں بھی تو وہیں ہوں گی نہ مزہ آجائے گا۔
7۔ اکثر لوگ فیس بک پر اس طرح کے لطائف لکھ ڈالتے ہیں۔ یہ بھی کفر ہے۔ جیسے اگر تم لوگ جنّت میں چلے بھی گئے تو سگریٹ جلانے کیلئے تو ہمارے ہی پاس (یعنی دوزخ میں)آنا پڑے گا
8۔ آؤ ظہر کی نماز پڑھیں ، دوسرے نے مذاق میں جواب دیا :یا ر ! آج تو چُھٹّی کا دن ہے ، نَماز کی بھی چُھٹّی ہے ۔
9۔ کسی نے مذاق میں کہا:''بس جی چاہتا ہے یہودی یا عیسائی یا قادیانی بن جاؤں۔ ویزہ تو جلدی مل جاتا ہے نا۔
23/07/2026
*نماز باجماعت پڑھنے پر پندرہ انعامات* ✍️
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ مومن جس نے وضو کیا اور مسجد کی طرف آیا اور اس میں نماز باجماعت ادا کی اور اس کے رکوع و سجود کو پورا کیا، اللہ تعالیٰ پندرہ انعامات سے اس کی عزت افزائی کرتا ہے۔ ان میں سے تین دنیا میں، اور تین موت کے وقت، اور تین قبر میں، اور تین حشر میں، اور تین اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے وقت۔ پس وہ تین انعام جو دنیا میں ہوتے ہیں:
اللہ اس کی عمر بڑھاتا ہے، اور اس کا رزق زیادہ کر دیتا ہے، اور اسے اور اس کے اہلِ خانہ کو اپنی حفاظت میں رکھتا ہے۔ اور وہ تین جو موت کے وقت ہیں: اللہ اسے خوف و ہراس سے امن کی اور دخولِ جنت کی بشارت دیتا ہے، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے تحت کہ بے شک وہ لوگ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے، ان پر ملائکہ اترتے ہیں کہتے ہوئے کہ خوف نہ کرو اور نہ غم کرو اور تم خوش ہو جاؤ اس جنت کے ساتھ جس کا تم کو وعدہ دیا گیا۔ اور تین قبر میں یہ انعام کہ اس پر نکیرین کے سوال آسان ہو جائیں گے، اور اس کی قبر فراخ کر دی جائے گی، اور اس کے لیے جنت کی طرف دروازہ کھول دیا جائے گا۔
اور وہ تین انعام جو محشر میں ہوں گے: جب وہ قبر سے نکلے گا تو اس کا چہرہ چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتا ہوگا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اور اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ دیا جائے گا، اور اس کا حساب آسان کر دیا جائے گا۔ اور وہ تین جو اللہ سے ملاقات کے وقت ہوں گے: اس سے اللہ راضی ہوگا، اور اس پر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ سلام کہنا ہے رب رحیم کی طرف سے، اور فرمایا کچھ چہرے اس دن تر و تازہ اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے۔
**بے نمازی کے لیے پندرہ عذاب**
اور فرمایا جس نے پنج گانہ نماز میں سستی کی، اللہ اسے پندرہ طرح سے عذاب دے گا: تین طرح دنیا میں، اور تین طرح موت کے وقت، اور تین طرح قبر میں، اور تین طرح محشر میں، اور تین طرح اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے وقت۔ بہر حال وہ تین عذاب جو دنیا میں ہوتے ہیں: اللہ اس کی روزی اور عمر سے برکت اٹھا دیتا ہے، اور صالحین کی علامت اس کے چہرے سے مٹا دیتا ہے۔ اور وہ تین جو موت کے وقت ہوتے ہیں: وہ بھوکا پیاسا اور ذلیل ہو کر مرتا ہے۔ اور وہ تین عذاب جو قبر میں دیئے جاتے ہیں: پس اس کی قبر تنگ کر دی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی ایک طرف کی پسلیاں دوسری طرف ہو جاتی ہیں، اور اس کے لیے جہنم کا دروازہ کھول دیا جاتا ہےـ
اور وہ تین جو اس پر محشر کو ہوتے ہیں: پس وہ قبر سے سیاہ چہرہ ہو کر اٹھتا ہے، اور اس کے چہرے پر لکھا ہوتا ہے کہ یہ شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہونے والا ہے، اور اسے اعمال نامہ پیٹھ کے پیچھے سے دیا جاتا ہےـ اور وہ تین سزائیں جو اسے اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے وقت ہوتی ہیں: اللہ تعالیٰ اس سے کلام نہیں فرماتا، اور اس کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرماتا، اور روزِ قیامت اسے گناہ سے پاک نہیں کرے گا، اور اس کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ان کے بعد ان کے کچھ ایسے جانشین ہوئے جنہوں نے نمازیں ضائع کیں اور خواہشات کے پیچھے چلے، عنقریب وہ دوزخ کے مقام غَی کو پالیں گے۔
(دقائق الاخبار للغزالی)
*نماز باجماعت پڑھنے پر پندرہ انعامات* ✍️
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ مومن جس نے وضو کیا اور مسجد کی طرف آیا اور اس میں نماز باجماعت ادا کی اور اس کے رکوع و سجود کو پورا کیا، اللہ تعالیٰ پندرہ انعامات سے اس کی عزت افزائی کرتا ہے۔ ان میں سے تین دنیا میں، اور تین موت کے وقت، اور تین قبر میں، اور تین حشر میں، اور تین اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے وقت۔ پس وہ تین انعام جو دنیا میں ہوتے ہیں:
اللہ اس کی عمر بڑھاتا ہے، اور اس کا رزق زیادہ کر دیتا ہے، اور اسے اور اس کے اہلِ خانہ کو اپنی حفاظت میں رکھتا ہے۔ اور وہ تین جو موت کے وقت ہیں: اللہ اسے خوف و ہراس سے امن کی اور دخولِ جنت کی بشارت دیتا ہے، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے تحت کہ بے شک وہ لوگ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے، ان پر ملائکہ اترتے ہیں کہتے ہوئے کہ خوف نہ کرو اور نہ غم کرو اور تم خوش ہو جاؤ اس جنت کے ساتھ جس کا تم کو وعدہ دیا گیا۔ اور تین قبر میں یہ انعام کہ اس پر نکیرین کے سوال آسان ہو جائیں گے، اور اس کی قبر فراخ کر دی جائے گی، اور اس کے لیے جنت کی طرف دروازہ کھول دیا جائے گا۔
اور وہ تین انعام جو محشر میں ہوں گے: جب وہ قبر سے نکلے گا تو اس کا چہرہ چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتا ہوگا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اور اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ دیا جائے گا، اور اس کا حساب آسان کر دیا جائے گا۔ اور وہ تین جو اللہ سے ملاقات کے وقت ہوں گے: اس س
21/07/2026
*میں تمہارا شوہر ہوں۔ کیا میں سب سے زیادہ اہم نہیں؟" 💔🥺*
کبھی کبھی آدمی ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی دو الگ زمانوں میں بسنے لگتا ہے۔
وہ شام بھی ایسی ہی تھی۔
مغرب کی اذان ابھی محلے کی مسجد سے بلند ہوئی تھی۔ صحن میں نیم کا درخت ہلکی ہوا کے ساتھ سرگوشیاں کر رہا تھا۔ چولہے پر دال کی خوشبو تھی، مگر گھر کے اندر ایک ایسی خاموشی اتر آئی تھی جو کسی ٹوٹے ہوئے برتن کی آواز کے بعد پھیلتی ہے۔
عالیہ نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ گلی کے موڑ پر اس کا شوہر حمزہ جاتے ہوئے ایک بار بھی پلٹ کر نہیں دیکھ سکا۔
وہ دروازہ بند ہونے کی آواز سنتی رہی، جیسے کوئی پرانا قصہ اپنے آخری صفحے پر پہنچ گیا ہو۔
عالیہ اکلوتی اولاد تھی۔ اس کی زندگی ہمیشہ ایک درخت کی طرح رہی تھی جس کی جڑیں ایک ہی مٹی میں بہت گہری اتر گئی ہوں۔ والدین، خالائیں، ماموں، پھوپھیاں، چچا زاد، ماموں زاد... سب ایک ہی شہر میں تھے۔ کسی کے گھر چائے، کسی کے ہاں عیادت، کسی کی خوشی، کسی کا غم۔ اس کی زندگی ایک گھر نہیں، پورا محلہ تھی۔
جب حمزہ اس کی زندگی میں آیا تھا تو اس نے پہلی ملاقاتوں ہی میں کہہ دیا تھا،
"میں اس شہر سے کبھی نہیں جاؤں گی۔ اگر زندگی میرے ساتھ گزارنی ہے تو یہی میرا آسمان ہے۔"
حمزہ نے مسکرا کر کہا تھا،
"انسان جگہ سے نہیں، انسان سے بندھتا ہے۔"
اس وقت دونوں کو معلوم نہ تھا کہ بعض اوقات انسان جگہ سے نہیں، یادوں سے بندھ جاتا ہے، اور یادوں کی جڑیں زمین سے بھی زیادہ سخت ہوتی ہیں۔
شادی ہوئی۔
حمزہ اپنے شہر، اپنے ماں باپ اور اپنے بچپن کی گلیاں چھوڑ کر اس کے شہر آ گیا۔
ابتدا کے چند برس ایسے گزرے جیسے موسم بہار خاموشی سے درختوں پر اترتی ہے۔ پھر ایک دن اس نے کہا،
"یہ شہر میرے خوابوں سے چھوٹا ہے۔ بڑی کمپنی میں موقع ملا ہے۔ اگر ہم منتقل ہو جائیں تو زندگی بدل سکتی ہے۔"
عالیہ نے بہت دیر خاموش رہ کر صرف اتنا پوچھا،
"اور میری زندگی؟"
حمزہ شاید اس سوال کا مطلب نہ سمجھ سکا۔
اس نے اعداد و شمار گنوائے۔ زیادہ تنخواہ، بہتر مستقبل، بڑے شہر کی سہولتیں، نئے امکانات...
عالیہ نے صرف اتنا کہا،
"یہ سب تمہارے لیے امکانات ہیں، میرے لیے جدائیاں۔"
بحث کئی دن چلتی رہی۔
آخر ایک شام حمزہ نے بے بسی سے کہا،
"میں تمہارا شوہر ہوں۔ کیا میں سب سے زیادہ اہم نہیں؟"
عالیہ نے آہستہ سے جواب دیا،
"تم بہت عزیز ہو... مگر تم میری پوری دنیا نہیں ہو۔ میری دنیا میں میرے ماں باپ بھی ہیں، وہ خالہ بھی ہیں جنہوں نے میری ماں کی بیماری میں مجھے سنبھالا تھا، وہ ماموں بھی ہیں جو ہر عید پر سب سے پہلے دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں، وہ کزن بھی ہیں جن کے بچوں کی پہلی آوازیں میں نے سنی ہیں۔ محبت ایک چراغ نہیں جس کی ساری روشنی ایک ہی طرف رکھی جائے۔ محبت تو کئی دیوں کی لو ہے۔ تم ان میں سے ایک روشن دیا ہو... مگر واحد نہیں۔"
یہ سنتے ہی حمزہ کے چہرے پر ایسی خاموشی اتری جیسے کسی نے اندر سے ایک دروازہ بند کر دیا ہو۔
وہ اٹھا۔
جوتے پہنے۔
اور چلا گیا۔
رات گئے عالیہ صحن میں بیٹھی رہی۔
اسے اچانک اپنے نانا کی کہی ہوئی بات یاد آئی۔
"بیٹی، گھر صرف وہ نہیں ہوتا جہاں آدمی رہتا ہے۔ گھر وہ بھی ہوتا ہے جہاں کوئی اس کا انتظار کرتا ہو۔"
اس نے پہلی بار سوچا...
حمزہ نے بھی تو اپنا پورا گھر چھوڑا تھا۔
اپنی ماں کی دعا، اپنے باپ کی خاموش شفقت، بہن کی ہنسی، دوستوں کی محفلیں... سب کچھ۔
وہ صرف شہر نہیں چھوڑ کر آیا تھا، اپنا انتظار چھوڑ آیا تھا۔
اور شاید اب وہ ایک ایسے گھر میں رہ رہا تھا جہاں اسے ہمیشہ مہمان ہونے کا احساس رہا۔
ادھر حمزہ شہر کی خالی سڑکوں پر چل رہا تھا۔
اسے عالیہ کے الفاظ بار بار یاد آ رہے تھے۔
"تم میری پوری دنیا نہیں ہو..."
جملہ غلط نہیں تھا۔
مگر بعض سچائیاں کانٹوں کی طرح ہوتی ہیں۔ ان کا جھوٹ ہونا ضروری نہیں، ان کا چبھ جانا کافی ہوتا ہے۔
اسے پہلی بار احساس ہوا کہ محبت میں سب سے بڑا خوف بے وفائی نہیں، غیر مرکزی ہو جانا ہے۔
یہ جان لینا کہ تم کسی کی زندگی میں موجود تو ہو، مگر اس کے گرد نہیں گھومتی۔
صبح ہوئی۔
عالیہ نے اپنی ماں کے گھر جانے کے لیے چپل پہنی، مگر دروازے تک پہنچ کر رک گئی۔
پھر پہلی بار اس نے رخ بدل دیا۔
وہ سیدھی حمزہ کے دفتر پہنچی۔
وہ باہر سیڑھیوں پر بیٹھا تھا۔
کافی کا کپ ٹھنڈا ہو چکا تھا۔
عالیہ اس کے پاس خاموشی سے بیٹھ گئی۔
کافی دیر دونوں کچھ نہ بولے۔
پھر عالیہ نے دھیرے سے کہا،
"میں آج بھی اپنے شہر سے نہیں جانا چاہتی۔"
حمزہ نے تلخ مسکراہٹ سے سر ہلایا۔
"مجھے معلوم ہے۔"
"مگر شاید میں یہ سمجھنے میں دیر کر گئی کہ تم نے صرف شہر نہیں چھوڑا تھا... تم نے اپنے لوگ چھوڑے تھے۔"
حمزہ نے پہلی بار اس کی طرف دیکھا۔
"اور شاید میں یہ سمجھنے میں دیر کر گیا کہ تم صرف ضد نہیں کر رہیں... تم اپنی جڑیں بچا رہی تھیں۔"
دونوں خاموش ہو گئے۔❗
ہوا میں موسمِ خزاں کے پتے اڑ رہے تھے۔
کافی دیر بعد حمزہ نے آہستہ سے کہا،
*"میں وہاں کمپنی میں بات کر لیتا ہوں۔ ریموٹ جاب مل سکتی ہے۔ تنخواہ تھوڑی کم ہو جائے گی... مگر گھر تو اپنا رہے گا نا؟"*
عالیہ کی آنکھوں میں پہلی بار مہینوں بعد نمی کے ساتھ مسکراہٹ آئی۔
*"اور میں... میں ہر مہینے تمہیں تمہارے شہر لے جاؤں گی۔ تمہاری ماں کے ہاتھ کا کھانا کھلاؤں گی۔ تمہارے دوستوں سے ملواؤں گی۔ تاکہ تمہیں کبھی مہمان نہ لگے۔"*
حمزہ نے سر جھکا لیا۔
*"محبت ایک چراغ نہیں ہوتی نا؟ کئی دیوں کی لو ہوتی ہے..."*
عالیہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
*"ہاں۔ اور ہم دونوں ایک دوسرے کے دیے بن جائیں گے۔ روشنی بانٹیں گے، بجھائیں گے نہیں۔"*
وہ دونوں اٹھے۔
اس دن کوئی بڑا فیصلہ نہیں ہوا۔
نہ عالیہ نے شہر چھوڑا، نہ حمزہ نے خواب۔
بس ایک چھوٹا سا فیصلہ ہوا۔
*ایک دوسرے کے گھر کو اپنا گھر مان لینے کا فیصلہ۔*
اگلے جمعہ وہ دونوں حمزہ کے شہر تھے۔
حمزہ کی ماں نے عالیہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا،
*"بیٹا، گھر وہ نہیں ہوتا جہاں ہم رہتے ہیں۔ گھر وہ ہوتا ہے جہاں کوئی ہمارا انتظار کرے۔ آج سے تم بھی اس گھر کا انتظار ہو۔"*
اور عالیہ نے پہلی بار محسوس کیا...
جڑیں کاٹے بغیر بھی درخت دوسری مٹی میں پھل دے سکتا ہے۔
بس پانی دونوں طرف ڈالنا پڑتا ہے۔
شام کو واپسی پر حمزہ نے کار کا شیشہ نیچے کیا اور کہا،
*"تم جانتی ہو؟ آج میں نے سمجھا... سب سے اہم ہونا ضروری نہیں۔ سب کے لیے اہم ہونا کافی ہے۔"*
عالیہ نے کھڑکی سے باہر دیکھ کر مسکرا کر کہا،
*"اور میں نے سمجھا... گھر ایک نہیں ہوتے۔ گھر جتنے دل ہوں، اتنے بنا لیے جاتے ہیں۔"*
گاڑی چل پڑی۔
پیچھے دو شہر رہ گئے...
اور آگے ایک گھر بن رہا تھا۔
جس کی دیواریں محبت کی تھیں، اور چھت سمجھ کی۔
*ختم* ❤️
*میں تمہارا شوہر ہوں۔ کیا میں سب سے زیادہ اہم نہیں؟" 💔🥺*
کبھی کبھی آدمی ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی دو الگ زمانوں میں بسنے لگتا ہے۔
وہ شام بھی ایسی ہی تھی۔
مغرب کی اذان ابھی محلے کی مسجد سے بلند ہوئی تھی۔ صحن میں نیم کا درخت ہلکی ہوا کے ساتھ سرگوشیاں کر رہا تھا۔ چولہے پر دال کی خوشبو تھی، مگر گھر کے اندر ایک ایسی خاموشی اتر آئی تھی جو کسی ٹوٹے ہوئے برتن کی آواز کے بعد پھیلتی ہے۔
عالیہ نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ گلی کے موڑ پر اس کا شوہر حمزہ جاتے ہوئے ایک بار بھی پلٹ کر نہیں دیکھ سکا۔
وہ دروازہ بند ہونے کی آواز سنتی رہی، جیسے کوئی پرانا قصہ اپنے آخری صفحے پر پہنچ گیا ہو۔
عالیہ اکلوتی اولاد تھی۔ اس کی زندگی ہمیشہ ایک درخت کی طرح رہی تھی جس کی جڑیں ایک ہی مٹی میں بہت گہری اتر گئی ہوں۔ والدین، خالائیں، ماموں، پھوپھیاں، چچا زاد، ماموں زاد... سب ایک ہی شہر میں تھے۔ کسی کے گھر چائے، کسی کے ہاں عیادت، کسی کی خوشی، کسی کا غم۔ اس کی زندگی ایک گھر نہیں، پورا محلہ تھی۔
جب حمزہ اس کی زندگی میں آیا تھا تو اس نے پہلی ملاقاتوں ہی میں کہہ دیا تھا،
"میں اس شہر سے کبھی نہیں جاؤں گی۔ اگر زندگی میرے ساتھ گزارنی ہے تو یہی میرا آسمان ہے۔"
حمزہ نے مسکرا کر کہا تھا،
"انسان جگہ سے نہیں، انسان سے بندھتا ہے۔"
اس وقت دونوں کو معلوم نہ تھا کہ بعض اوقات انسان جگہ سے نہیں، یادوں سے بندھ جاتا ہے، اور یادوں کی جڑیں زمین سے بھی زیادہ سخت ہوتی ہیں۔
شاد
18/07/2026
🌼
**جو لوگ رب کی مانتے ہیں**
اوناس ایک یونانی تاجر تھا، دنیا کی سب سے بڑی جہاز رانی کمپنی کا مالک تھا، زیتون کا کاروبار کرتا تھا، اسے دنیا کے امیر ترین شخص ہونے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔ امریکہ کی خاتون اول جیکولین کینیڈی سے اس نے شادی کی۔ کاروبار زوال کا شکار ہوا اور مر گیا۔
اس کے پپوٹوں کے اعصاب جواب دے گئے تھے، وہ اپنی پلکیں نہیں اُٹھا سکتا تھا۔ ڈاکٹروں نے اس کے پپوٹوں پر سلوشن ٹیپ لگا دی تھی جس کے باعث دن بھر اس کی آنکھیں کھلی رہتی تھیں اور رات سونے کے وقت وہ سلوشن ٹیپ اُتار دیتا، اس کے پپوٹے، اس کی پلکیں آنکھوں پر گر جاتیں، اندھیرا ہو جاتا اور وہ سو جاتا۔ صبح اُٹھ کر وہ دوبارہ ٹیپ لگوا لیتا۔ جب اس سے زندگی کی سب سے بڑی خواہش پوچھی گئی تو کچھ دیر سوچتا رہا اور پھر دُکھی لہجے میں بولا: ”کاش میں ایک بار، صرف ایک بار اپنی پلکیں خود اُٹھا سکوں۔“ پوچھنے والا پوچھتا ہے: ”اس خواہش کے عوض تم کیا دے سکتے ہو؟“ اوناس فوراً جواب دیتا ہے: ”اپنی ساری دولت، اپنا سب کچھ۔“
ہمارے رب کا کرم دیکھیے، ہم اپنی پلکیں خود اُٹھا سکتے ہیں۔ ہماری پلکوں کی یہ حرکت اوناس کی پوری دولت سے قیمتی ہے۔ پلکیں ہی کیا، ہمارے رب نے ہمارے جسم کو ایسی ایسی نعمتیں بخشی ہیں جن کا دنیا میں کوئی بدل نہیں۔ ان نعمتوں میں سے کوئی ایک کم ہو جائے تو ہم دنیا بھر کے خزانے لٹا کر وہ نعمت دوبارہ حاصل نہیں کر سکتے۔
**اور جو لوگ رب کو مانتے ہیں**
دل ایک خودکار مشین کی طرح ہے جو کہ دن میں ایک لاکھ تین ہزار چھ سو اسی مرتبہ دھڑکتا ہے۔ یہ دھڑکنیں کم یا زیادہ ہو جائیں تو ہماری زندگی کا سارا ربط ٹوٹ جائے۔ یہ درست ہے کہ اب ہم مصنوعی دل لگوا سکتے ہیں لیکن اس دل کے بعد زندگی کس قدر خوفناک ہو جاتی ہے، ہم اس کا تصور نہیں کر سکتے۔
ہماری آنکھیں ایک کروڑ دس لاکھ رنگ دیکھ سکتی ہیں، آنکھیں رنگوں کی شناخت کی یہ صلاحیت کھو دیں تو دنیا کا سارا سونا انسان کو اس کے رنگ نہیں لوٹا سکتا۔
ہماری زبان جیسی کوئی مشین ایجاد نہیں ہوئی جو ذائقہ بتا سکے، جو لیموں کی ترشی اور سیب کی مٹھاس میں فرق کر سکے۔
قوت گویائی ہے کہ سائنس نے ابھی تک ایسا آلہ نہیں بنایا جو گونگے کے منہ سے لفظ نکال سکے۔
ہونٹ نہ ہوں تو ہم نہ کھا سکتے ہیں نہ پی سکتے اور نہ ہی پوری طرح بول سکتے ہیں۔ 35 فیصد الفاظ کی ادائیگی کے لیے ہمارے ہونٹوں کے محتاج ہیں۔
لعاب دہن ہے کہ دنیا میں ابھی تک کوئی ایسا کیمیکل ایجاد نہیں ہوا جو منہ میں لعاب پیدا کر سکے۔ جن کا لعاب دہن ختم ہو جاتا ہے وہ ہاتھ میں ہر وقت پانی کی بوتل رکھتے ہیں، انہیں ہر دو منٹ بعد اپنی زبان گیلی کرنا پڑتی ہے۔
انسانی ناک تین ہزار خوشبوؤں کو سونگھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ خوشبو کی یہ صلاحیت [جو] کھو جائے تو دوبارہ نہیں ملتی۔ *(نیچے نوٹ دیکھیں)*
پھیپھڑے دن میں پندرہ ہزار بار سانس لیتے ہیں۔ سانسوں کی یہ تعداد کم یا زیادہ ہو جائے تو انسان ادھ موا ہو جاتا ہے۔
**یقین کرو یا نہ کرو**
یقین کیجیے ہمارے ایک ایک سانس، ہمارے بدن کا ایک ایک لمحہ اس کے کرم، اس کے رحم اور اس کی عنایتوں کا اعلان ہے۔ جس پر اس کی عنایت اور رحم و کرم کے سلسلے بند ہو جاتے ہیں، وہ شاہ ہو یا گدا، اس کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے، دکھوں سے بھر جاتی ہے۔
انسان گڑگڑا کر موت طلب کرتا ہے لیکن موت تو اپنے وقت سے پہلے نہیں آ سکتی، اور بس انسان دُکھوں کی بے رحم وادی میں جلتا مرتا گھٹتا کراہتا ہی رہتا ہے اور دنیا اس کے لیے عذاب گاہ بن جاتی ہے۔
ایسی مصیبتوں کے وقت کون کسی کی سنے؟ کس کو پکارا جائے؟ کون بندوں کے دُکھ دور کرے؟ دن رات رب تعالیٰ کی نافرمانیاں کرنے والے کی کب سنی جائے گی؟ ہاں! اس کریم کا کرم ہے، وہ جس پر کرنا چاہے تو کوئی اسے روک بھی نہیں سکتا، ورنہ تو میرا رب انہی کی مانتا ہے جو میرے رب کی مانتے ہیں۔
*(زیرو پوائنٹ ص: ۳۱۵ مختصر)*
*آپــــــ کا ایک ریئکٹ....ہمارے لیے حوصلہ افزائی ہے*♥️
🌼
**جو لوگ رب کی مانتے ہیں**
اوناس ایک یونانی تاجر تھا، دنیا کی سب سے بڑی جہاز رانی کمپنی کا مالک تھا، زیتون کا کاروبار کرتا تھا، اسے دنیا کے امیر ترین شخص ہونے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔ امریکہ کی خاتون اول جیکولین کینیڈی سے اس نے شادی کی۔ کاروبار زوال کا شکار ہوا اور مر گیا۔
اس کے پپوٹوں کے اعصاب جواب دے گئے تھے، وہ اپنی پلکیں نہیں اُٹھا سکتا تھا۔ ڈاکٹروں نے اس کے پپوٹوں پر سلوشن ٹیپ لگا دی تھی جس کے باعث دن بھر اس کی آنکھیں کھلی رہتی تھیں اور رات سونے کے وقت وہ سلوشن ٹیپ اُتار دیتا، اس کے پپوٹے، اس کی پلکیں آنکھوں پر گر جاتیں، اندھیرا ہو جاتا اور وہ سو جاتا۔ صبح اُٹھ کر وہ دوبارہ ٹیپ لگوا لیتا۔ جب اس سے زندگی کی سب سے بڑی خواہش پوچھی گئی تو کچھ دیر سوچتا رہا اور پھر دُکھی لہجے میں بولا: ”کاش میں ایک بار، صرف ایک بار اپنی پلکیں خود اُٹھا سکوں۔“ پوچھنے والا پوچھتا ہے: ”اس خواہش کے عوض تم کیا دے سکتے ہو؟“ اوناس فوراً جواب دیتا ہے: ”اپنی ساری دولت، اپنا سب کچھ۔“
ہمارے رب کا کرم دیکھیے، ہم اپنی پلکیں خود اُٹھا سکتے ہیں۔ ہماری پلکوں کی یہ حرکت اوناس کی پوری دولت سے قیمتی ہے۔ پلکیں ہی کیا، ہمارے رب نے ہمارے جسم کو ایسی ایسی نعمتیں بخشی ہیں جن کا دنیا میں کوئی بدل نہیں۔ ان نعمتوں میں سے کوئی ایک کم ہو جائے تو ہم دنیا بھر کے خزانے لٹا کر وہ نعمت دوبارہ حاصل نہیں کر سکتے۔
**اور جو لوگ رب کو مانتے ہیں**
دل ایک خودکار مشین کی ط
Surah humaza recitation
Surah humaza recitation
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Address
Onilne
Lahore